دودھ کی نہر

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - [ مجازا ]  فارغ البالی، خوش حالی، حد درجہ آسائش۔ "اسے بتایا گیا تھا کہ جہاں وہ جا رہا ہے وہاں دودھ کی نہریں ہوں گی، انگوروں کے خوشے ہوں گے۔"      ( ١٩٧٩ء، بدن کا طواف، ٧٠ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ اسم 'دودھ' بطور مضاف الیہ استعمال ہوا ہے۔ سنسکرت سے ماخوذ حرف اضافت 'کی' اور عربی زبان سے اسم جامد 'نہر' بطور مضاف استعمال کرکے مرکب اضافی بنایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٩٧٩ء کو بدن کا طواف میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ مجازا ]  فارغ البالی، خوش حالی، حد درجہ آسائش۔ "اسے بتایا گیا تھا کہ جہاں وہ جا رہا ہے وہاں دودھ کی نہریں ہوں گی، انگوروں کے خوشے ہوں گے۔"      ( ١٩٧٩ء، بدن کا طواف، ٧٠ )

جنس: مؤنث